لاہور ہا ٸی کورٹ نے رمضان شوگر مل کیس
اٹھارٹی کا کوٸی لیٹر یا شکایت دکھانے میں ناکام رہا ۔عدالت نے مزید لکھا ہے کہ نیب کا یہ کہنا غلط ہے کہ نالے کی تعمیر سے صرف مل کو فاٸدہ پہنچا جبکہ اس سے علاقہ ہذا کی عوام اور سرکاری ڈپو بھی مستفید ہو رہا ہے ۔ جبکہ جھنگ اور کچھ دیگر علاقو میں بھی اسی طرح کی سکیمیں منظور ہو ٸی نیب نے ان پر تو کوٸی کاررواٸی نہیں کی۔ مل کے اصل مالک حمزہ شہباز ہیں ان کے بجاٸے نیب نے شہباز شریف کو گرفتا ر کیو کیا ؟ کسی بھی علاقے میں کوٸی بھی سکیم متعارف کرنا متعلقہ نماٸندوں کا کام ہوتا ہے نیب کسی نماٸندے کو کیسے روک سکتا ہے؟ عدالت نے مزید لکھا ہے کہ
جس نالے کی غیر قانونی تعمیر کا الزام نے نیب نے لگا یا ہے وہ پنجاب اسمبلی سے بھی منظور شدہ ہے توایسی صرتحال میں نیب کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔ واضح رہے نیب نے شہباز شریف پر الزام لگا یا تھا کہ بطور وزیراعلٰی رمضان شگر مل کو فاٸدہ پہنچانے کے لیے انہوں نے نالے کی تعمیر کی ۔

0 comments:
Post a Comment