یوں نہ رو کر درد بدنام کیجیے
درد سہ کر بھی آپ آرام کیجیے
کچھ نہ رکھیے خیال لوگوں کا
مے اور جام بھی جامہ احرام کیجیے
آپ بھی دستور میخانہ نبھائیے
جو زیادہ پیے اسے اپنا امام کیجیے
کب تک رہیں گے ذرہ ریگزار آپ
خود کو بلند کیجیے، بهرام کیجیے
اسے خبر ہی نہ ہو جال کی ثاقب
آپ کچھ یوں اسے تہ دام کیجیے
عبید الرحمٰن ثاقب

0 comments:
Post a Comment