غزل
چہروں میں جو ابھی سے جھریاں پڑی ہوئی ہیں
بچپن سے وحشتوں میں جاناں پلے ہوئے ہیں
الفت کے راستے پر کرنا سفر ہے مجھ کو
پیروں میں میرے لیکن چھالے پڑے ہوئے ہیں
نفرت, حسد, عداوت, کینہ ,جلن وغیرہ
کتنے برے رویوں پر ہم جمے ہوئے ہیں
جنگل سے اب پرندوں کو گھر میں لانا ہوگا
کچھ لوگ گھونسلوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
اک شعر ہم بھی لکھ دیں آخر اویس قرنی
راہِ خیال پر ہم کب سے کھڑے ہوئے ہیں

0 comments:
Post a Comment