یہ زمیں ، آسماں ، سب غلط
منزلیں ، کارواں ، سب غلط
کوئی اچھا نہیں ہے یہاں
نقشِ پا اور نشاں، سب غلط
نشانہ شکار پہ ہے منحصر
تیر اور کماں ، سب غلط
وہ مہر و ماہ ہے تو پھر
چاند اور کہکشاں ،سب غلط
یاں تو منصف ہی سچا ہے
مدعی اور بیاں، سب غلط
اب خزاں میں چمن ہرا ہوگا
باغ اور باغباں ، سب غلط
قافلے لٹتے خود ہی ہیں
راہزن، راہرواں ، سب غلط
جو دیکھو ، کرو یقیں اس پر
یہ وہم اور گماں، سب غلط
ٹھیک ہے تو بس ثاقب ہے
یہ زمین و زماں ، سب غلط

0 comments:
Post a Comment