کسی پبلک لائبریری کے ایک
پرانے شیلف میں موجود دیمک زدہ کتاب جیسی ہوگئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کے اوپر پڑی دھول
اس کے الفاظ کو ختم کرنے میں لگی ہوئی ہے
مگر کاغد کی عمدہ
کوالٹی اسے آسانی کے ساتھ ایسا کرنے نہیں دیتی
اور میں
میں ایک مخبوط الحواس
خبطی پروفیسر کی مانند ہوں
جو بلاناغہ لائبریری
کی اس بوسیدہ کتاب کا مطالعہ زندگی کا لازمی جزو سمجھتا ہے
جو ہر روز دیمک زدہ
کتاب سے دھول صاف کرنے کی کوشش میں جٹا ہے
مگر
مگر یہ دھول روز
پہلے سے بڑھ کر کتاب سے لپٹ جاتی
سنو جاناں !!!!
تم جانتی ہو ناں
کی یہ صدی
یہ صدی کتاب سے محبت
کی آخری صدی ہے
لازماً ایک دن لائبریرین
یہ کتاب کسی کباڑی کو بیچ دے گا
پھر یقیناً یہ خبطی
پروفیسر بھی نہیں رہے گا
مگر
مرتے وقت بھی پروفیسر
لازماً یہی سوچ رہا ہوگا
کہ آخر اس کتاب میں
کیا تھا
جو عمر بھر
کی ورق گردانی کے بعد بھی وہ کتاب اس کی سمجھ میں نہ آسکی
عبید الرحمٰن ثاقب
انجم براڈ کا سٹ کے لیے لکھیں -اپنے کالم ، اپنی شاعر ی اپنی تصویر کے ساتھ پبلش کراوائیں

0 comments:
Post a Comment