![]() |
| فائل فوٹو مورسی سا بق صدر مصر ۔ بشکریہ پی بی ایس ۔ |
(رپورٹ محبوب الرحمٰن)
دنیا کے مختلف ممالک میں تمام ڈکٹیٹرز کا ایک ہی بیانیہ کیوں ہوتا ہے؟؟؟؟
ناظرین آیئے آپ کو بتاتے ہیں کہ پوری دنیا میں مختلف ڈکٹیٹرز کا اور ان کے لے پالکوں کا حیران کن حد تک ایک ہی قسم کا بیانیہ کیوں ہوتا ہے،
,پاکستان کا مشرف ہو یا سیاسی جرنیلوں کا کوئی لے پالک ،
مصر کا ڈکٹیٹر جنرل سیسی ہو یا سوڈان میں حالیہ حکومت کو گرانے والا آمر یا ترکی میں طیب اردگان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والا گروہ،
مصر کا ڈکٹیٹر جنرل سیسی ہو یا سوڈان میں حالیہ حکومت کو گرانے والا آمر یا ترکی میں طیب اردگان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والا گروہ،
ان سب کا ایک ہی قسم کا بیانیہ تھا یا ہے
احتساب ضروری ہے، سیاستدان کرپٹ ہیں، سیاستدان غدار ہیں، ملک کو بچانا ہے،
ملک کو جب یہ کسی گہری کھائی میں گرا دیتے ہیں تو یہی نام نہاد محب وطن جرنیل ملک سے ایسے بھاگتے ہیں کہ
عدالتوں کے بلانے پہ بھی واپس نہیں آتے بلکہ بیماریوں کو ڈھونگ رچا کر ملک سے مفرور ہوجاتے ہیں
یا پھر مفرور کرا دیئے جاتے ہیں ۔
عدالتوں کے بلانے پہ بھی واپس نہیں آتے بلکہ بیماریوں کو ڈھونگ رچا کر ملک سے مفرور ہوجاتے ہیں
یا پھر مفرور کرا دیئے جاتے ہیں ۔
آج تک کسی ڈکٹیٹر کے دور میں یا کسی جرنیلی لے پالک دور میں کسی بھی ملک کی ترقی نہیں ہوئی
مصر کو ہی دیکھ لیجئیے معیشت تباہ قانون جنگل کا ہوگیا ہے،
پاکستان کو دیکھ لیں معیشت تباہ اور قانون جنگل کا بنا دیا گیا ہے،
مصری منتخب حکومت محمد مرسی کا تختہ الٹنے میں کرادر اگر اسرائیلی ایجنٹ سیسی کا ہاتھ تھا
تو پاکستان میں پا کستان میں بھی حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔!
مصر کو ہی دیکھ لیجئیے معیشت تباہ قانون جنگل کا ہوگیا ہے،
پاکستان کو دیکھ لیں معیشت تباہ اور قانون جنگل کا بنا دیا گیا ہے،
مصری منتخب حکومت محمد مرسی کا تختہ الٹنے میں کرادر اگر اسرائیلی ایجنٹ سیسی کا ہاتھ تھا
تو پاکستان میں پا کستان میں بھی حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔!

0 comments:
Post a Comment