نارمل:
"آئی ایم نارمل"
کھڑکی کے پار لگے ہوئے بورڈ پر سے اس کی نظریں ہٹ نہیں رہی تھی
جہاں رنگ دار الفاظ کنندہ تھے
"ہیومن بیئنگ انفیکٹڈ فری کالونی"
اپنی طرز کی اس پہلی کالونی میں اسے داخل ہوئے یہ تیسری رات تھی۔
سامنے رکھی چاندی کی طشتری میں قدیم طرز کی دھات کی تین چھوٹی پیالیوں میں ہلکے رنگوں کا مائع موجود تھا۔
جو آج آخری بار اسے دیا گیا تھا،کل اسی وقت ایک تحریری معاہدے کے بعد اسے پرمیننٹ ڈوز دے دی جانی تھی جس کے بعد وہ "نارمل" کی لسٹ میں شامل ہو جائے گی۔
اس نے خوش ہونا چاہا مگر وہ خوش نہیں ہو سکی
تو کیا وہ اداس ہے؟
سوال نے سر اٹھایا
اس کے اندر گہری چپ تھی
جواب مثبت تھا نہ ہی نفی میں۔
حتی کہ وہ مضطرب بھی نہیں ہوئی۔
تو کیا یہ طے ہے کہ میں اب نارمل ہوں؟
وہ اداسی کا سفیر۔۔۔ وحشی دیوداس اب میری نقرئی راتوں کو کالا سیاہ نہیں کرے گا؟
کیا واقعی زندگی اب اسی سکون میں گزرے گی؟
وہ بھی شام ڈھلے نیند کی مخملی وادی میں قدم دھرے گی اور بستر پر خار دار جھاڑیاں نہیں اگیں گی؟
"یہاں بہت سکون ہے"
اس نے موبائل ہاتھ میں لے کر خود کو اونچی آواز میں یاد دہانی کرائی۔
سانس لینے میں وہ دقت نہیں ہے جو نہ جانے کتنی مدت سے میرے سینے میں مستقل پنجے گاڑے ہوئے ہے
اور میں دو دن سے کچی نیند سے جاگ کر چلائی بھی نہیں ہوں
وہ بڑبڑائی۔
کنٹیکٹس سے نظریں چراتے ہوئے کھلی کھڑکی کے پاس آ کر اس نے چاندنی کے طلسم میں پناہ لینی چاہی
پر چاند تو 'بے حسن' تھا۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے کل پھول 'خوش بو' سے خالی تھا۔۔۔
یکایک اس کی نظر کانٹیکٹ لسٹ میں سب سے اوپر موجود چیٹ پر پڑی
جہاں اس کے حرکت کرتے ہوئے ہاتھ "آنلائن" دیکھ کر رکے تھے۔
وہیں اس کی ردھم سے چلتی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں۔
دماغ کی زور دار سرزنش پر وہ طشتری کے قریب آئی
بس آج کے دن یہ مائع پی لینے سے رزسٹنس پوٹینشل اس لیول پر آجائے گا جہاں وہ اس قابل ہو جائے گی کہ باقی ماندہ زندگی بے حد سکون کے عالم میں اس ہو شربا کالونی میں گزار سکے گی۔
کانپتے ہاتھ سے اس نے دھات کی پیالی اٹھائی
نظر دوسرے ہاتھ میں موبائل کی جلتی سکرین پر اٹھی پہلی چیٹ کی "ڈس پلے" ابھی ابھی بدلی گئی تھی۔
تصویر میں موجود شخص کی آنکھوں کی چمک سے اس کے لہو میں جوار بھاٹا اٹھنے لگا
اور ہونٹوں پر موجود ہلکے سے تبسم سے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔
بے وقوف لڑکی!
اس شخص کے جال میں مت پھنس۔۔۔ یاد کر جب خواری تیرے قدموں سے لپٹ چکی تھی۔۔ ہوش حواس سے بے گانہ الجھے بالوں سے رات بھر چکراتی رہتی تھی
خوشی تیری دسترس میں ہی تھی مگر بانجھ ہو چکی تھی۔
ہاتھ بڑھا لے۔۔۔یہ مائع نہیں "آب حیات" سمجھ کر پی اور اپنی زندگی جی۔
بالکل بھی نہیں۔۔۔
ہاتھ نہ بڑھانا، اس فریبی بڈھے کی باتوں میں مت آنا
الفت زادی!
یہ نگر تمھارے لیے نہیں ہے۔۔
عشق میں جان وار کر امر ہوجانا ہی حیات ہے
افسانے کے کردار کی لڑکی ہانپتے ہوئے چلائی۔
اس بے راہ رو کی باتوں پر مت کان دھر۔۔۔ایگر پلیٹ پر پروان چڑھائی جانے والی کالونی کے بانی (بد ہئیت ڈاکٹر) بڈھے کے خیالی پیکر نے خفگی سے ہنکارا بھرا۔۔۔
شاباش یہ لو پیو، چند قدم آگے بڑھ کر پیالی اس کے لبوں کے قریب لا کر اسے چمکارا گیا
تب ہی دور کہیں بانسری کی لے پر ایک خانہ بدوش سوز سے گنگنایا تھا "محبت کی ہے داستاں زندگی۔۔۔محبت نہ ہو تو کہاں زندگی؟؟"
اس نے کان بند کر کے بڈھے کی طرف دیکھا۔
جس کا سپاٹ چہرہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا
اسے تھکن سے پر دیہاتی عورتوں کے سانولے چہرے یاد آئے جن پر ان گنت کہانیاں درج ہوا کرتی تھیں
اور اس کے ساتھ ہی ذہن کی شبیہہ پر "کچی اینٹوں والی دربار کے صحن میں ڈھول کی تھاپ پر مٹی سے اٹے ننگے پیروں بے ڈھب انداز سے رقص کرتے ملنگ لہرائے"
اس نے زور سے سر جھٹکا
"آئی ایم نارمل"
ہسٹریائی انداز میں خود کو باور کرا کر لبوں کے قریب کی ہوئی پیالی میں موجود مائع اچانک بڈھے کے چہرے پر اچھال کر وہ ننگے پیروں باہر کی طرف بھاگی
جہاں کے کانٹے دار رستوں پر، اس کے پیروں کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔
"افسانے کے کردار کی لڑکی،
بانسری کی لے پر گنگناتا ہوا خانہ بدوش
مٹی سے اٹے پیروں والا رقص کرتا مدہوش دیوانہ،
گلے میں اٹکتی ٹوٹتی بکھرتی سانسیں، آنکھ کے کونے میں کرلاتی بے خوابی کی لالی اور تیز دھڑکنوں کی آہٹ"
بھی سنائی دے رہی تھی!
"زویا ممتاز"

0 comments:
Post a Comment