کس جانب اس تیزی سے سفر کرتی ہوں
بیٹھے بیٹھے تھک کر ہانپنے لگتی ہوں
اٹھا کر ملبہ بھی اب دفن کر دیا جائے
میں کیا ہوں ! اک تباہ شدہ سی بستی ہوں
یہ رمز عشق کی، میری سمجھ سے باہر ہے
تو پاس ہے ! مگر تیرے لئے ترستی ہوں
یہ بین ہیں، جنہیں تو قہقہے سمجھتا ہے
ڈھکوسلہ ہے جو ! اس قدر میں ہنستی ہوں
بچھڑ کے تجھ سے یہ دل گداز ایسے ہوا
کہ تنہا پیڑ جو دیکھوں ! تو آہ بھرتی ہوں
تمہارا ہجر سلامت رہے مرے اندر
روز یاد کے دریا کو پار کرتی ہوں
بچھڑ جا تو کہ تجھے اور سمت جانا ہے
میں دیکھتی ہوں کہ میں تجھ سے کب بچھڑتی ہوں
مالا راجپوت
Home
Uncategories
تمہارا ہجر سلامت رہے مرے اندر... یہ سوچ کر روز یاد و ں کے دریا کو پار کرتی ہوں...... مالا راجپوت
- Blogger Comment
- Facebook Comment
Subscribe to:
Post Comments
(
Atom
)
0 comments:
Post a Comment