جمہویت بہترین انتقام ہے
(تحریر افتخارالدین انجم
)
پاکستان اس ملک کے باسیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انمول تحفہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اسے ہر طرح کی دولت سے نواز ا ہے
مگر ہم نے اپنے ہی
ہا تھوں اپنے اس نشیمن کو غربت کی دلدل ،بدامنی
کے مہیب سایوں ،
لاقانونیت کے ایک تلخ و طویل دور،بے روزگا ری کے بھیانک خواب ،
اپنی انا اور پسند نا پسند کی بھینٹ چڑ ھا رکھا
ہے
ہماری اسی انا اور پسند نا پسند نے پہلے اس دھرتی کو دو لخت کر دیا اور اب یہ
ہماری اسی انا اور پسند نا پسند نے پہلے اس دھرتی کو دو لخت کر دیا اور اب یہ
دھرتی اس نحیف بڑھیا کی طرح بن چکی جو بے سا کھیو
ں کے سہارے پر بھی کھڑی نہیں ہو سکتی ۔
اور المیہ یہ ہے کہ جو بھی مسند اقتدار پر آتا ہے
اسی نحیف بڑھیا کےبال نوچتاہے
اور داد طلب نظروں سے دیکھتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ دنیا کے کئی مما لک جو ہم سے ترقی کے
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ دنیا کے کئی مما لک جو ہم سے ترقی کے
میدان میں بہت پیچھے تھے وہ ہم سے کہیں آگے کیسے نکل گئے؟
سچ تو یہ
کہ آج ہم سری لنکا ، بنگلہ دیش (جو ہم سے ہی آزاد ہو ا تھا )
،نیپال ،ہندوستان ،بھوٹا ن جیسے ہمسائیوں سے بھی
کوسوں پیچھے رہ چکے ہیں ۔
جب چین جہاز کے ج سے
بھی واقف نہیں تھا ہم دنیا کی نمبر ون ائیر لا ئن کے مالک تھے ۔
جب پا کستا ن نے چین کو پہلا
جہا ز تحفے کے طور پر دیا تو چائنیز دور دور سے اسے دیکھنے آئے ۔
پا کستا
ن اور چین کی دوستی کا آغا ز یہیں سے ہوا تھا اسی لیے چین اسے
آئر ن
فرنڈ شپ کا نا م دیتا ہے ۔زرا آج دیکھے
چا ئنہ دنیا کا سپر پا ور بنے لگا ہے اور ہم سپر پُوور ۔۔۔۔۔
کیا کبھی چا ئنہ میں ما رشل لا ز لگے ؟
کیا چا ئنیز سیا ست دان کرپٹ نہیں تھے ؟جی ہا ں وہ بھی اتنے ہی کرپٹ تھے
چا ئنہ دنیا کا سپر پا ور بنے لگا ہے اور ہم سپر پُوور ۔۔۔۔۔
کیا کبھی چا ئنہ میں ما رشل لا ز لگے ؟
کیا چا ئنیز سیا ست دان کرپٹ نہیں تھے ؟جی ہا ں وہ بھی اتنے ہی کرپٹ تھے
جتنے
ہمارے سیا ست دان بلکہ غیرمسلم ہونے کی وجہ سےہمارے سیا ستدانو ں
سے زیا
دہ کرپٹ تھے لیکن جمہو۔ریت وہ ریفائنری ہے جس سے آئے روز بہتر سے
بہتر ین
سیا ست دان ابھر کر سامنے آتے ہیں کرپٹ لو گوں کا احتسا ب کیا جا تا ہے،
انہیں سخت سزائیں دی جاتی ہیں اور انہیں سیا ست
سے ہی آو ٹ کیا جا تا ہے۔
انڈیا ہی کو دیکھ لیجے اسی کی دہا ئی تک انڈیا ہم سے کتنا پیچھے تھا ؟ہمارے ملک سے
انڈیا ہی کو دیکھ لیجے اسی کی دہا ئی تک انڈیا ہم سے کتنا پیچھے تھا ؟ہمارے ملک سے
جب کوئی شخص جاتا تو انڈین مکھیوں کی طرح آگےپیچھے
بھنبناتےتھے۔
کیوں نہ ایسا کرتے پاکستانیوں کی حثیت ان کے ملک
میں پورپین کے برابر تھی
پاکستان
کی کرنسی انکی کرنسی سے کئی گنا زیا دہ قیمت رکھتی تھی ۔پاکستان ایک
مظبوط
کرنسی کا حامل ملک تھا اور وہ کرپٹ سیا ست دانوں کے رحم کرم پرتھے ۔
انڈیا ایک غریب ترین ملک تصور کیا جا تا تھا ۔
پھر کیا ہوا وہ اس تجربے کو بار بار دہراتے ر ہے ہم نئے تجربے کرتے رہے
پھر کیا ہوا وہ اس تجربے کو بار بار دہراتے ر ہے ہم نئے تجربے کرتے رہے
اور اب ان کی کرنسی کی ویلیوں آپکی کرنسی سے
دوگنا بڑھ چکی ہے۔
انکے نوےفیصد کرپٹ سیا ست دان سیا سی دھارے سے ہی
آوٹ ہوچکے ہیں ۔کیوں
کہ جمہوریت میں طرح ہوتا ہے اسی لیے تو کہتے ہیں جمہورت بہترین
انتقام ہے۔
اپنےہی ملک کی تین روزہ طفل جمہوریت کو دیکھ لیجیے آصف علی زرداری کا
اپنےہی ملک کی تین روزہ طفل جمہوریت کو دیکھ لیجیے آصف علی زرداری کا
طرز حکمرانی عوام کو پسند نہ آیا تو عوام نے ان
سے انتقا م لے لیا اور چاروں صوبو ں
کی علامت
سمجھی جا نے والی پارٹی کو ایک صوبے کی چند نشستوں تک محدود کر دیا
اور نواز شریف کو اقتدار سونپ دیا نواز شریف کا
طرز حکمرانی پسند نہ آیا ۔
شاید قرض کے دلدل میں قوم کو پھنسانا ،عوام
کوکھٹکنےلگا اور عوام نے انتقام لے لیا
اور
عمران خا ن کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا اگر اب عمران خا ن عوام کی توقعات پر
پورا
نہیں اترتے تو بلاشبہ عوام انتقا م لے گی اور انہیں بھی پویلین کا راستہ دیکھا ئے گی ۔
پھر کیوں نہ ہم جمہوریت کو بار بار آزمائیں تاوقت
یہ کہ ہمیں ہماری توقعات پر اترنے
والی قیا دت اور ملک کو ترقی کے زینے چڑھانے والی
لیڈر شپ میسر آئے ۔جمہوریت کی
سب سے دلچسپ با ت یہ ہے کہ
ایسے تما م سیا ست دانوں کو جو ملک کے خزانے کو یا ملکی
مفا دات کو نقصان پہنچا تے ہیں نہ صرف عوام ایسے
لوگوں کو قتدار سے نکا ل باہر پھکتے ہیں
بلکہ ریاست اپنا قانونی شکنجہ بھی ان پر کس لیتی
ہے ۔
بدقسمتی سے آمریت میں یہ طریقہ کا ر میسر نہیں ۔ ملک کے مفا دات کو آمروں نے
بدقسمتی سے آمریت میں یہ طریقہ کا ر میسر نہیں ۔ ملک کے مفا دات کو آمروں نے
نا قابل تلافی نقصان پہنچایا او ر اگر ہم تما م
آمروں کا بھی اسی طرح احتساب کرتے اور انکے
ہر غیر قانونی کا م کی انہیں سزا مل چکی ہوتی تو
آج یہ ملک ایتھوپیا اور یوگنڈا کی صف میں کھڑا نہ ہو تا۔
یحیٰ خا
ن کے انا کی بھینٹ چڑھ کر ملک دولخت ہو ا ۔ضیا الحق کے بوے بیج
سے
کلاشنکوف کا کلچر پروان چڑھا ۔
مشر ف کی غلط پا لیسز سے ملک میدان جنگ بن گیا ۔
مگر افسوس اس با ت کا ہے
کہ ہمیں
یقین اب بھی آمریت پر ہے جمہوریت پرنہیں ۔ایسے عالم میں جا ئیں تو جائیں کہاں ۔
کیا کِیا خضرنے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی ۔
کیا کِیا خضرنے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی ۔
To Get More Updates don't forget to like and share this post with your friends on Facebook,twitter and Google+

0 comments:
Post a Comment