غزل
تو سمجھتا ہے کہ بس گفتگو ضروری ہے
تیرا ہونا بھی مرے چار سو ضروری ہے
تیری موجودگی تو مجھ میں یوں ضروری ہے
جس طرح میری رگوں میں لہو ضروری ہے
تیرے آنے کی امیدیں تو کب کی چھوٹ گئیں
پھر بھی محفل میں تری گفتگو ضروری ہے
بے معانی ہی سہی آرزو، مگر اے دوست
تیرے جیسا نہیں تو ہوبہو ضروری ہے
یہ تو اچھا ہے میسر نہیں آیا تو ہمیں
جینے کو بھی تو کوئی جستجو ضروری ہے
تجھے ملنے کی بھی حسرت ہے بہت، پر مجھ کو
تیری قربت سے تری آبرو ضروری ہے
فیصل حبیب
نئے لکھا ریوں ، شعرا اور شاعرات کے لیے بہترین پلیٹ فارم ۔۔۔ اپنے کالم اور شاعری ہماری ویب سائٹ انجم ڈاٹ کام پر
پبلش کرا ئیں رابطہ
Contact Us کریں۔۔۔۔۔۔۔
یا
Comment
میں اپنی تحریر بہیج دیں ۔شکریہ
0 comments:
Post a Comment