فراقِ شب کی اذیتوں کا کلام دکھ ہے، تمام دکھ ہے
یہاں ہر اک موڑ پر ہر اک شے کا نام دکھ ہے ،تمام دکھ ہے
سمجھ سکا ایک بھی نہ جب وہ، سوال میرا جواب میرا
لگے ہے مجھ کو کہ میرا سارا کلام، دکھ ہے، تمام دکھ ہے
خوشی بھی آوے ہے اور غمی بھی یہ زندگی کا سفر ہے پیارے
خوشی ہے مظہر بہار کا، غم کا نام دکھ ہے ، تمام دکھ ہے
قدم جمائے کھڑے رہو تم نہ حوصلے پست ہونے دینا
ہے آنے والا جو ایک آگے، مقام، دکھ ہے، تمام دکھ ہے
یہ سسکیاں، یہ مہیب راتیں، یہ بے قراری امیر حمزہ
ہیں روگ جتنے بھی ان سبھی کا امام دکھ ہے، تمام دکھ ہے
امیر حمزہ سلفی
عجب ہوں میں کہ جو خود درد سر بناتا ہوں
مکان بن نہیں سکتا میں گھر بناتا ہوں
اتارتا ہوں میں وحشت ورق پہ پہلے ، پھر
جو رنگ اداسی کا بھرتا ہوں، ڈر بناتا ہوں
اڑانا میں نے ہے اونچی اڑان شاہیں کو
تو فکر و فن سے میں بھی بال و پر بناتا ہوں
کبھی تو کوچ ہی کرنا ہے مجھ کو دنیا سے
تو پھر میں کس لیے یاں مستقر بناتا ہوں
کشید کرتا ہوں میں بھی کسی تمنا کو
گماں تراشتا ہوں درد سر بناتا ہوں
میں خود کو ڈسنے لگا ہوں کہانی گر حمزہ
میں خود کو پھر سے یہاں مار کر بناتا ہوں
امیر حمزہ سلفی
ایک تکلیف پسِ قلب و جگر ہوتی ہے
اکثر اس طرح سے بھی رات بسر ہوتی ہے
میں غمِ شب کو بسر کرتا ہوں مشکل سے میاں
شب گزرتے ہی کسی دکھ سے سحر ہوتی ہے
ناصحا کچھ تو کمی ہو گی تری بات میں بھی
اس لیے تیری نصیحت بے اثر ہوتی ہے
دے تو سکتا ہوں جواباً میں تجھے بھی گالی
میرے کردار کی تو ہین مگر ہوتی ہے
سلسلہ ہے یہ محبت بھی مکافات ہی کا
جو اِدھر ہوتی ہے حالت وہ اُدھر ہوتی ہے
آتے ہیں کتنے ہی دشوار مراحل حمزہ
طے جو کی جائے تو طے راہ گزر ہوتی ہے
امیر حمزہ سلفی
خودی کا میں نے کلیجہ چبا کے چھوڑ دیا
وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
اسی امید پہ آئے گا لوٹ کر واپس
ہوا میں، میں نے پرندہ اُڑا کے چھوڑ دیا
ابھی رگوں میں یہ گھلنے لگا تھا عشق مگر
یہ زہر آپ نے آدھا پِلا کے چھوڑ دیا
وصالِ وقت تو اب آن ہی تھا پہنچا جان
یہ کس مقام پہ اے شخص آ کے چھوڑ دیا
گُماں نہ تھا کہ وہ نکلے گا خود غرض انساں
کہ فائدہ جو مِلا وہ اُٹھا کے چھوڑ دیا
کسی کا ہم سے گوارا نہیں ہے جلنا بھی
چراغ تیرگی میں بھی بُجھا کے چھوڑ دیا
تلاشِ یار میں ہی میری عمر گزرے گی
کہاں اے زندگی مجھ کو یہ لا کے چھوڑ دیا
امیر حمزہ سلفی
خامشی سے نکلتی بات کا دکھ
جانتا ہوں تمہاری ذات کا دکھ
نیم شب کی خموشی اور غمِ دل
نوچ لیتا ہے آنکھ ، رات کا دکھ
بس میں شکوہ کناں نہیں تجھ سے
مجھ کو ویسے ہے تیری بات کا دکھ
ہار کر بھی میں جیت جاؤں گا
بس کبھو ہو جو تجھ کو مات کا دکھ
تم نے جینا ہے، میں نے جینا ہے
جاں نکالے گا یہ حیات کا دکھ
میرے جینے پہ بھی نہ راضی تھا
تجھ کو ہونا تھا کیا وفات کا دکھ
دوست غمگیں نہ ہوں مرے حمزہ
پال لوں گا میں پانچ سات کا دکھ
امیر حمزہ سلفی

0 comments:
Post a Comment