غزل
ہمیں
تم سے محبت ہے مگر
ہم کہہ نہیں سکتے
'حسیں' دل کی ضرورت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
تیری باتیں ،تیری یادیں، ہے کتنی یہ حسیں راتیں
ہمیں تیری ہی عادت ہے مگر ہم کہہ نہیں
سکتے
وہ
شرمانا ، وہ اترانا ،
بلانے پر بھی نہ
آ نا
یہی
میری شکایت ہے مگر
ہم کہہ نہیں سکتے۔
نہ دن میں قرار آئے
نہ راتوں کو سکوں حاصل
ہوئی کیسی یہ عادت ہے مگر ہم کہہ نہیں
سکتے
جو پوچھو حالِ دل تم تو منع بھی کر نہ پائے ہم
تمہیں سننے کی فرصت ہے مگر ہم کہہ نہیں
سکتے
ہم ہی سے عشق ہے اُنکو ، ہم ہی سے اُن کا شرمانا
یہ کیسی اک قیامت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
وہ آنکھوں میں حسیں کاجل وہ نظریں قاتلانہ
بھی
وہ کتنی خوبصورت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
وہ زلفیں بھی حسیں توبہ وہ نظریں بھی حسیں
توبہ
وہ
تابش کی محبت ہے مگر ہم کہہ نہیں
سکتے
اختر تابش کلکتوی
نئے لکھا ریوں ، شعرا اور شاعرات کے لیے بہترین پلیٹ فارم ۔۔۔ اپنے کالم اور شاعری ہماری ویب سائٹ انجم ڈاٹ کام پر
پبلش کرا ئیں رابطہ
Contact Us کریں۔۔۔۔۔۔۔
یا
Comment
میں اپنی تحریر بہیج دیں ۔شکریہ
0 comments:
Post a Comment