زندہ رہنے کا حوصلہ بھی نہیں
اور یہ میرا فیصلہ بھی نہیں
جس پے تمہید مستقیم کی ہو
اتنا سیدھا یہ راستہ بھی نہیں
میرے جینے میں میرے ہونے میں
زندگی تیرا تذکرہ بھی نہیں
ایسی تہذ یب پر بنے ہے تف
روشنی جس کا مرحلہ بھی نہیں
اپنے ہونے پے کیا قیاس کروں
میرا ہونا تو واقعہ بھی نہیں
ایک کمرے میں دو اکیلے ہیں
بیچ میں کوئی تیسرا بھی نہیں
میں سمیٹے ہوئے ہوں درد ترا
جبکہ یہ میرا مسئلہ بھی نہیں
سارے گل خود ملے مجھے آکر
اور میں باغ تک گیا بھی نہیں
تیرے لہجے میں کیوں کدورت ہے ؟
تیرا میرا تو واسطہ بھی نہیں
پتھ نے خود دی گواہی میرے لیے
پاؤں پر ایک آبلا بھی نہیں
میں تجھے چھوڑتی ہوں تیرے لیے
اور یہ میرا فیصلہ بھی نہیں
اقصیٰ ارم راجہ
0 comments:
Post a Comment