پندار جو تھے وہ سپہ سالار ہو گئے
پندار جو تھے وہ سپہ سالار ہو گئے
ہم جنگ میں لڑے ہوئے بے کار ہو گئے
میری کہانی کے ہوئے ہیں چرچے اتنے کہ
لوگوں کو یاد سارے ہی کردار ہوگئے
کل مفلسی کی دیکھی تھی تصویر ارسلان
اخبار میرے شہر کے بیدار ہو گئے
میں چاہتا ہوں تازے محبت کے زخم ہوں
اب یہ پرانے تو بے کار ہو گئے
کل تک جو صرف تیرے میاں مٹھو بنتے تھے
وہ آج ہر کسی کے طرف دار ہو گئے
ہم ساتھ تیرے رہتے ہوئے جانے پھر بھی کیوں
برباد ہو گئے مری سرکار ہو گئے
اس حسن کی کرامتیں تو دیکھو ارسلان
ویران سے یہ شہر بھی بازار ہو گئے
یار ان چھچھو نے تو بے پر کی اڑا رکھی
تھی
ہم بے نقاب دیکھ کے بے زار ہو گئے
آواز دے رہا تھا میں تو بے وفاؤں کو
پر چہرے ہر طرف سے نمودار ہو گئے
میں سوچ تو رہا تھا ترے بارے میں مگر
تیری طرح خیال بھی بے زار ہو گئے
باد صبا چلی ہے کچھ اس طرح ارسلان
میری غزل کے شعر بھی خم دار ہو گئے
ارسلان وارث
نئے لکھا ریوں ، شعرا اور شاعرات کے لیے بہترین پلیٹ فارم ۔۔۔ اپنے کالم اور شاعری ہماری ویب سائٹ انجم ڈاٹ کام پر
پبلش کرا ئیں رابطہ Contact Us
کریں۔۔۔۔۔۔۔ یا
Comment
میں اپنی تحریر بہیج دیں ۔شکریہ
0 comments:
Post a Comment