"جون ایلیا کی زمیں میں ایک غزل"
غیروں
سے اب کوئی گلہ ہی نہیں
کیوں
کہ اپنا مجھے ملا ہی نہیں
لوگ
فنکار سمجھتے تھے مجھے
اور
میں حالات میں ڈھلا ہی نہیں
جانے
کیا ہو گیا ہے حسن کو تیرے
مجھ
پہ جادو ترا چلا ہی نہیں
پہلے
تو تھا عروج پر دیدار
ایسا
اب کوئی سلسلہ ہی نہیں
ابھی
سے چیخنے چلانے لگی ہو
ابھی
وہ ہوگا جو ہوا ہی نہیں
بیج
بویا تھا یوں ہی پیار کا ہم نے
پیار
کا پھول تو کھلا ہی نہیں
واسطہ
غیروں سے پڑا ہر وقت
تجھ
سا اپنا کوئی ملا ہی نہیں
کیا
کہا عشق اور تم چھوڑو!
ابھی
تجھ میں وہ حوصلہ ہی نہیں
حال
بستی کا دیکھ کر ارسل
لگتا
ہے کہ یہاں خدا ہی نہیں
ارسلان وارث
نئے لکھا ریوں ، شعرا اور شاعرات کے لیے بہترین پلیٹ فارم ۔۔۔ اپنے کالم اور شاعری ہماری ویب سائٹ انجم ڈاٹ کام پر
پبلش کرا ئیں رابطہ
Contact Us کریں۔۔۔۔۔۔۔
یا
Comment
میں اپنی تحریر بہیج دیں ۔شکریہ
خوب است
ReplyDelete